ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دستاویزات دیکھ کر وزیراعظم کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا

دستاویزات دیکھ کر وزیراعظم کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا

Wed, 19 Jul 2017 15:53:11    S.O. News Service

اسلام آباد ،18؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )عدالتِ عظمیٰ نے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ پر سماعت بدھ تک ملتوی کردی ہے۔منگل کو دوسرے روز سماعت کا آغاز ہوا تو وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل بنچ کے سامنے پیش کرنا شروع کیا ۔ایک روز قبل ہونے والی سماعت میں درخواست گزاروں عمران خان اور جماعت اسلامی کے وکلا جب کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے بذات خود دلائل مکمل کیے تھے۔تحریک انصاف کے وکیل وزیراعظم کو عدالت میں بلانے کی استدعا کر چکے ہیں جب کہ جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے نواز شریف پر دروغ گوئی کے الزام پر اپنے دلائل دیے۔شریف خاندان اور وفاقی وزیرخزانہ اسحٰق ڈار جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اپنے اعتراضات عدالت عظمیٰ میں جمع کرادیا ہے اور وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے ان ہی اعتراضات پر اپنے دلائل دیے۔شریف خاندان کا موقف ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنے وضع کردہ دائرہ کار سے تجاوز کیا اور دستاویزات حاصل کرنے کے مروجہ قانونی طریقہ کار کے برعکس طریقہ اپنایا۔ان کا استدلال تھا کہ جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کی طرف سے وضع کیے گئے 13سوالوں کے بجائے 15سوالوں کے جوابات تلاش کرنے کے لیے کام کرتے ہوئے اپنے دائرہ کار سے تجاوز کیا۔مزید برآں جے آئی ٹی نے ان پرانے مقدمات کی بھی چھان بین کی جن پر عدالتوں کی طرف سے فیصلے سنائے جا چکے ہیں۔اس پر بنچ کے ریمارکس تھے کہ جے آئی ٹی کو اس لیے یہ کام سونپا گیا تھا کیونکہ معاملے کے اطمینان بخش جوابات شریف خاندان کی طرف سے نہیں دئیے گئے۔

بنچ نے کہا کہ عدالت نے رپورٹ کی سفارشات پر نہیں بلکہ دستاویزات کو دیکھتے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔بنچ کا کہنا تھا کہ لندن میں شریف خاندان کے فلیٹس کی ملکیت کے لیے رقوم کے ذرائع شریف خاندان نے ہی ثابت کرنے ہیں اور عدالت شواہد دیکھ کر ہی وزیراعظم نوازشریف کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔تین رکنی بنچ کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شریف خاندان نے یہ سوچ رکھا تھا کہ انھوں نے جے آئی ٹی کو کچھ نہیں بتانا کیونکہ ٹیم کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں پر کوئی بھی اطمینان بخش جواب نہیں دیا گیا۔عدالت نے سماعت بدھ تک ملتوی کردی ہے۔منگل کو بھی سماعت کے موقع پر عدالت عظمیٰ کے باہر فریقین نے میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے پر الزامات اور اپنے موقف کے حق میں دلائل دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔حزب مخالف کا استدلال ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں وزیراعظم اور ان کے خاندان کے خلاف مالی بے ضابطگیاں ثابت ہوتی ہیں، لہذا نوازشریف وزارتِ عظمیٰ پر براجمان رہنے کا اخلاقی اور قانونی جواز کھو چکے ہیں۔لیکن وزیراعظم اور ان کی جماعت کے رہنما اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے جے آئی ٹی رپورٹ کے نتائج کو رد کر چکے ہیں۔


Share: